نئی دہلی،2 ؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )شہر کی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ اگر کوئی بغیر اجازت کے پوسٹر وغیرہ لگاتا ہے تو اس کو جائیداد کو بگاڑنے کے الزام میں استغاثہ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف شکایتیں آنے پر ایف آئی آر درج کی جائیں گی ۔جسٹس بدرالدجی احمد اور جسٹس آشوتوش کمار کی بنچ کے سامنے پولیس نے اپنی بات رکھی۔بنچ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی جانب سے دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ اشتہارات، ہورڈنگس، بینر، پوسٹر، بل بورڈ رہائشی عمارتوں پر لگائے جا رہے ہیں جو کہ پالیسی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔دہلی پولیس نے بنچ کو بتایا کہ اس کے قانونی سیل نے ایک میمو جاری کیا ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جائیداد کو مسخ کرنے کے معاملات میں دہلی جائیداد مسخ روک تھام ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جائیں گی۔پہلے کی سماعت میں میونسپل کارپوریشنوں نے دعوی کیا تھا کہ شہر میں غیر قانونی ہورڈنگس کو ہٹانے میں سب سے بڑی رکاوٹ دہلی پولیس کی غیرفعالیت ہے جس کے بعد دہلی پولیس کا یہ ردعمل آیا ہے ۔کارپوریشنوں نے ہائی کورٹ کے سامنے دلیل دی تھی کہ جہاں کہیں بھی فوری طور پر کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے تو شکایات کو دہلی پولیس کے پاس بھیج دیا جاتا ہے لیکن اس کی جانب سے آگے کی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔عدالت میں معاملہ کی اگلی سماعت 16؍نومبر کو ہوگی ۔